جنس
جنس :-
"کسی
اسم یا ضمیر کے نر یا مادہ
ہونے کو اس کی 'جنس' کہتے ہیں۔"
اردو قواعد میں جنس اس بات کی پہچان
کرواتی ہے کہ لفظ مذکر (نر)ہے یا مونث (مادہ) ۔
مثالیں :
·
مذکر : لڑکا، استاد، باپ، پنکھا، گھوڑا
·
مونث: لڑکی، استانی، ماں، کرسی، گھوڑی
نوٹ ۔ نر کو مذکر یا تذکیر کہتے ہیں اور مادہ کو مونث یا تانیث کہتے ہیں ۔
اسم یا تو نر ہوتا ہے
یا مادہ ۔
جنس کی اقسام (Types of Gender in Urdu)
اردو
میں جنس کی دو بنیادی
اقسام ہوتی ہیں:
➊ مذکر (Masculine Gender):
وہ اسم
جو نر (Male) کو
ظاہر کرے۔
مثال: لڑکا، باپ، گھوڑا،
شاہ، بھائی
➋ مونث (Feminine Gender):
وہ اسم
جو مادہ (Female) کو
ظاہر کرے۔
مثال: لڑکی، ماں، گھوڑی،
ملکہ، بہن
اردو میں جنس کے
اعتبار سے اسم کی دوقسمیں ہیں۔
جنس حقیقی اور جنس غیر حقیقی۔
جنس حقیقی
-: جس جاندار اشیاء کی
جنس عام طور پر فطری ہوتی ہے ۔ یعنی جس جاندار اشیاء میں نر اور مادہ کی علامتیں قدرت کی طرف سے
موجود ہوتی ہیں۔ (باپ –
مذکر ،
ماں
– مونث) ، (مرد – مذکر
،عورت–
مونث)، (بیل– مذکر
، گاے –
مونث)، (مرغا – مذکر
،مرغی–
مونث) ، (لڑکا– مذکر
، لڑکی – مونث )وغیرہ۔
جنس غیر حقیقی :- جنس
غیر حقیقی سے مراد بے جان اشیاء ہیں، ان میں نر اور مادہ کی پہچان کی کوئی علامت موجود نہیں
ہوتی۔ بے جان
اشیاء کی جنس کا تعین اردو زبان کے اصولوں کے مطابق کیا جاتا
ہے جیسے:
"کرسی" مونث، "پنکھا" مذکر وغیرہ۔
اردو میں جنس حقیقی
کے اعتبار سے اسم کی پانچ قسمیں ہیں۔
(١) مذکر حقیقی (۲) مونث
حقیقی
(۳) مذکر غیر حقیقی (۴) مونث
غیر حقیقی
(۵) جنس عام
) ١(مذکر
حقیقی :- مذکر حقیقی اس مذکر کو کہتے ہیں جس کا مونث
موجود ہے
مثال :لڑکا کا لڑکی ،بیل کا گائے ،مرد کا عورت ،چاچا کا چاچی ،باپ کا ماں
وغیرہ۔
(۲) مونث حقیقی:- مونث حقیقی اس مونث کو کہتے ہیں جس کا مذکر موجود ہے
مثال : لڑکی کا لڑکا ،گھوڑی کا گھوڑا ،عورت کا مرد، ماں کا باپ وغیرہ۔
(۳) مذکر غیر حقیقی :- مذکر غیر حقیقی اس
مذکر کو کہتے ہیں جس کا کوئی مونث موجود نہیں ہے
مثال : نیچے دیے گئے تمام الفاظ مذکر ہیں ان کے مونث موجود
نہیں ہیں
مندرجہ ذیل الفاظ مذکر ہیں،
ان کا مونث نہیں ہوتا۔1
|
1. اژدہا (مذکر) : "اژدہا غار سے نکلا
اور دہاڑا۔" |
|
2.الو (مذکر) : "الو رات بھر درخت
پر بیٹھا رہا اور الوک کرتا رہا۔" |
|
3.باز (مذکر) : "باز نے
اپنے پنجوں سے خرگوش کو اٹھا لیا۔" |
|
4. بھانڈ (مذکر): "بھانڈ نے
دربار میں حاضر ہو کر سب کو ہنسایا۔" |
|
5. بھڑوا (مذکر): "بھڑوا
شہد کی مکھیوں کے چھتے پر حملہ کر رہا تھا۔" |
|
6.تیندوا (مذکر): "تیندوا درخت پر
چڑھ گیا اور شکار کو تاک رہا تھا۔" |
|
7. چیتا (مذکر): "چیتا میدان میں
تیزی سے دوڑا اور ہرن کا پیچھا کر رہا تھا۔" |
|
8.حیجڑا (مذکر): "حیجڑا
تقریب میں آیا اور خوب ناچا۔" |
|
9. کچھوا (مذکر): "کچھوا آہستہ
آہستہ چل رہا تھا اور آخر کار کنویں میں گر گیا۔" |
|
10. کوا (مذکر): "کوا کانٹے پر
بیٹھا تھا اور کاں کاں کر رہا تھا۔" |
|
11. طوطا (مذکر): "طوطا درخت کی
شاخ پر بیٹھا تھا اور زور سے بول رہا تھا۔" |
(۴) مؤنث غیر حقیقی :- مونث غیر حقیقی اس
مونث کو کہتے ہیں جس کا مذکر موجود نہیں ہے
مثال : نیچے دیے گئے تمام الفاظ مونث ہیں ان کے مذکر موجود نہیں ہیں
مندرجہ ذیل الفاظ مونث ہیں،
ان کا مذکر نہیں ہوتا۔
|
1 . بطخ (مونث): "بطخ تالاب میں تیر رہی
تھی اور اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔" |
|
2.بھڑ (مونث): "بھڑ پھولوں کے باغ
میں گنگناتی ہوئی اڑ رہی تھی۔" |
|
3. بیوہ (مونث): "بیوہ عورت اپنے
گھر کے صحن میں تنہا بیٹھی تھی اور سوچوں میں گم تھی۔" |
|
4. چیل (مونث): "چیل آسمان میں
بلند اڑان بھر رہی تھی اور اپنے شکار پر نظر جمائے ہوئے تھی۔" |
|
5. چڑیل (مونث): "چڑیل کھنڈر میں
سے گزر رہی تھی اور خوفناک آوازیں نکال رہی تھی۔" |
|
6. چھپکلی (مونث): "چھپکلی دیوار
پر تیزی سے دوڑ رہی تھی اور مچھروں کو کھانے کی کوشش کر رہی تھی۔" |
|
7. چھچھوندر (مونث): "چھچھوندر
ندی کے کنارے اپنا گھر بنا رہی تھی۔" |
|
8. ڈائن (مونث): "ڈائن نے اپنی
جادوئی چھڑی سے ایک خرگوش کو کبوتر بنا دیا تھا۔" |
|
9. فاختہ (مونث): "فاختہ چھت پر
بیٹھی تھی اور مسلسل کوکتی جا رہی تھی۔" |
|
10. جھینگر (مونث): "جھینگر کھیت
میں اچھلتی پھاندتی گھاس چر رہی تھی۔" |
|
11. لومڑی (مونث): "لومڑی چالاکی
سے کھیت میں گھس گئی تھی اور مرغیوں کو ڈرا رہی تھی۔" |
|
12. مکھی (مونث): "مکھی میٹھے آم
کے گرد بڑے شوق سے منڈلا رہی تھی۔" |
|
13. مینا (مونث): "مینا درخت کی
شاخ پر بیٹھی تھی اور دوسرے پرندوں کی آوازیں نقل کر رہی تھی۔" |
|
14. مکھی (مونث): " مکھی بیمار
آدمی کے گرد منڈلا رہی تھی اور بہت پریشان کر رہی تھی۔" |
|
15. سہاگن (مونث): "سہاگن عورت
اپنے سہاگے کی مالا پہن کر خوشی سے مسکرا رہی تھی۔" |
(۵) جنس عام :- اس کو جنس مستوی بھی کہتے ہیں۔ جنس عام وہ جنس ہے جو مذکر اور
مونث دونوں میں استعمال ہو۔
مثال : بلبل ، سانس، فکر ، فاتحہ،
املا وغیرہ۔
تذکیر و تانیث کے کچھ اصول
درج ذیل ہیں :
١۔بے جان چیزوں کی جنس عرفِ عام اور استعمال کے
مطابق مانی جاتی ہے
مثالیں :روٹی
(مونث(،پانی
(مذکر(،دھوپ
(مونث(، کپڑا
(مذکر(،
٢۔
جن الفاظ کے آخر میں ا ہو تو وہ مذکر ہوں گے۔
مثالیں: خدا(مذکر)،
لڑکا (مذکر)، کالا (مذکر) ،دانا (مذکر) ،برا (مذکر) ، بیٹا(مذکر)، دریا (مذکر)، باجا (مذکر)،
سودا (مذکر)،
بڑھا پا(مذکر)،دریا(مذکر)،تارا(مذکر)، چوہا(مذکر) وغیرہ ۔
۳۔ جن الفاظ کے آخر میں ہ ” ہائے مجہول“
ہو تو مذکر ہوں گے۔
جیسے : بندہ، پردہ ، دایہ ،آئینہ، سروتہ وغیرہ
۔۴۔ جن الفاظ کے آخر میں
ی ہو تو مونث ہوں گے۔
·
مثالیں:
چچی (مونث(،لڑکی (مونث(،کالی (مونث(،گائے (مونث(، بیٹی(مونث(،بکری(مونث(،نانی (مونث( روٹی(مونث(، ، بوٹی(مونث(، چھری (مونث(، ٹوپی وغیرہ
·
مستثنٰی: موتی ۔ دہی ۔ پانی۔ ہاتھی وغیرہ
” مستثنٰی“ ہیں، یعنی یہ مذکر الفاظ ہیں۔
۵۔ جن
الفاظ کے آخر میں یا ہو وہ بھی مونث ہوتے
ہیں۔
مثالیں: کتیا(مونث(، گڑیا (مونث، ( چڑیا (مونث(۔
٦۔
رشتے ناتے کے الفاظ
فطری جنس کے مطابق ہوتے ہیں
مثالیں:ماں (مونث(، باپ
(مذکر (بھائی (مذکر (بہن
(مونث(،
بیل(مذکر (گاے(مونث(۔
٧۔اگر مرکب الفاظ بے جان ہیں تو فعل کی تذکیر و
تانیث آخری لفظ کے لحاظ سے ہوگی ۔
مثالیں :
مذکر مرکب الفاظ کی فہرست
مندرجہ ذیل ہے
|
نمبر |
مرکب الفاظ |
جنس |
جملہ استعمال میں |
|
1 |
آب و گل |
مذکر |
انسان آب
و گل سے پیدا کیا گیا ہے۔ |
|
2 |
کشت و خون |
مذکر |
جنگ میں شدید کشت
و خون ہوا تھا۔ |
|
3 |
ڈاک گھر |
مذکر |
قاصد ڈاک
گھر سے خط لے کر آیا ہے۔ |
|
4 |
شفاخانہ |
مذکر |
مریض کو فوراً شفاخانے لے جایا گیا ہے۔ |
|
مونث مرکب الفاظ کی فہرست مندرجہ ذیل ہے |
||||||||||||||||||||||||
|
مرکب الفاظ کے آخر میں گاہ آنے پر مونث ہیں۔ جیسے : تعلیم گاه، درس گاه،
بندرگاہ، قیام گاہ وغیرہ ۔
٨۔جن الفاظ کے اخر میں
"واں" ہو وہ مذکر ہوتے ہیں
مثالیں-:
|
لفظ |
جنس |
استعمال کا جملہ |
|
پانچواں |
مذکر |
پانچواں دن بارش ہوئی۔ |
|
ساتواں |
مذکر |
ساتواں آسمان بہت بلند ہے۔ |
|
آٹھواں |
مذکر |
آٹھواں سوال اردو کا تھا۔ |
|
نواں |
مذکر |
نواں مہینہ شروع ہو گیا۔ |
|
دسواں |
مذکر |
دسواں کھلاڑی زخمی ہو گیا۔ |
|
گیارہواں |
مذکر |
گیارہواں نمبر میرا تھا۔ |
|
بارہواں |
مذکر |
بارہواں مہینہ دسمبر ہوتا ہے۔ |
|
تیرہواں |
مذکر |
تیرہواں دروازہ بند ہے۔ |
|
چودہواں |
مذکر |
چودہواں کھلاڑی تیار ہے۔ |
|
پندرہواں |
مذکر |
پندرہواں سوال بہت اہم تھا۔ |
|
سولہواں |
مذکر |
سولہواں کھلاڑی آخری تھا۔ |
|
سترہواں |
مذکر |
سترہواں دن چھٹی کا ہے۔ |
|
اٹھارہواں |
مذکر |
اٹھارہواں صفحہ گم ہے۔ |
|
انیسواں |
مذکر |
انیسواں لڑکا کامیاب ہوا۔ |
|
بیسواں |
مذکر |
بیسواں سوال ختم ہو چکا ہے۔ |
٩۔ اردو کے سبھی مصادر الفاظ مذکر ہوتے ہیں
جیسے :لکھنا ،پڑھنا ،کھانا، پینا ،اٹھنا، بیٹھنا ،مCنا ،جیناوغیرہ
١٠۔ تمام مہینوں کے نام مذکر ہوتے ہیں
جیسے:- محرم – صفر– ربیع الاول
– چیت –– بیساکھ – جنوری– فروری– مارچ وغیرہ۔
١١۔ اسم یا صفت کے آخر میں پن یا
پا لگا کر بنے الفاظ مذکر ہوتے ہیں۔
جیسے:- بچپن، لڑکپن ، دیوانہ
پن ،بڑھا پا وغیرہ
١٢۔ خداوند عالم کے سارے نام مذکر ہیں۔
جیسے:
رحیم - ستار
۔غفار ۔ شکور غفور وغیرہ۔
١٣۔اردو زبان میں زیادہ
تر قدرتی عناصر، خصوصاً دھاتیں اور قیمتی
پتھر (جواہرات) کے نام مذکر
ہوتے ہیں، چاہے وہ کسی رنگ، شکل یا خوبصورتی سے تعلق رکھتے ہوں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں قدرتی اشیاء اور اجزائے ترکیبی (elements and compounds) کو عموماً بطور مذکر
استعمال کیا جاتا ہے، جب تک کہ ان کا استعمال یا اسمِ خاص کسی مونث صنف کے ساتھ
خاص نہ ہو۔
مثالیں:
|
لفظ |
قسم |
جنس |
جملہ استعمال |
|
سونا |
دھات |
مذکر |
سونا قیمتی دھات ہے۔ |
|
چاندی |
دھات |
مذکر |
چاندی کے سکے نایاب ہیں۔ |
|
لوہا |
دھات |
مذکر |
لوہا مضبوط ہوتا ہے۔ |
|
تانبا |
دھات |
مذکر |
تانبا برتنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ |
|
پلاٹینم |
دھات |
مذکر |
پلاٹینم مہنگی دھات ہے۔ |
|
ہیرا |
جواہر |
مذکر |
ہیرا بہت قیمتی پتھر ہے۔ |
|
نیلم |
جواہر |
مذکر |
نیلم نیلے رنگ کا خوبصورت پتھر ہے۔ |
|
زمرد |
جواہر |
مذکر |
زمرد سبز رنگ کا قیمتی پتھر ہے۔ |
|
پکھراج |
جواہر |
مذکر |
پکھراج خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ |
|
یاقوت |
جواہر |
مذکر |
یاقوت لال رنگ کا قیمتی پتھر ہے۔ |
١٤۔جب کسی قوم، مذہب، فرقہ یا جماعت
کے نام افراد کے
نمائندے کے طور پر استعمال ہوں (یعنی "ایک ہندو"،
"ایک مسلمان")، تو ایسے الفاظ عام طور پر مذکر مانے جاتے
ہیں۔
·
اگرچہ
بعض اوقات یہ نام خواتین
پر بھی لاگو ہوتے ہیں، جیسے "ایک مسلمان عورت" یا "عیسائی
لڑکی"، مگر لفظ خود اپنی اصل جنس میں مذکر
ہی رہتا ہے، اور اس کی مونث شکل جملے کے مطابق ظاہر ہوتی ہے (جیسے
"مسلمانہ" نہیں کہا جاتا)۔
مثالیں جملوں کے ساتھ:
|
لفظ |
صنف |
جملہ استعمال |
|
ہندو |
مذکر |
وہ ایک ہندو ہے۔ |
|
مسلمان |
مذکر |
مسلمان نماز پڑھتا ہے۔ |
|
سکھ |
مذکر |
سکھ مذہب امن کا درس دیتا ہے۔ |
|
عیسائی |
مذکر |
وہ عیسائی بہت نیک دل ہے۔ |
|
برہمن |
مذکر |
برہمن ہندو دھرم کا پجاری ہوتا ہے۔ |
|
پارسی |
مذکر |
پارسی لوگ اپنی ثقافت کے پابند ہوتے ہیں۔ |
|
جین |
مذکر |
جین دھرم میں عدم تشدد اہم اصول ہے۔ |
نوٹ: اگر کوئی جملہ عورت کے لیے ہو تو ضمیر اور فعل مونث ہو
جاتا ہے، لیکن لفظ
خود مذکر ہی رہتا ہے۔
مثلاً:
"وہ
مسلمان عورت ہے۔" → یہاں "مسلمان" لفظ مذکر ہی ہے،
مگر "عورت" کی وجہ سے ضمیر مونث بن گیا۔
خلاصہ:
·
قوموں، جماعتوں
اور مذاہب کے نام اردو میں عموماً مذکر ہوتے ہیں۔
·
اگر وہ کسی خاتون
کے لیے استعمال ہوں تو جملے میں مونث ضمیر استعمال ہوگا، لیکن لفظ خود نہیں بدلے گا۔۔
١٥۔قدرتی اجسام جیسے سورج،
چاند، سیارے اور ستارے عمومی طور پر مذکر مانے جاتے
ہیں۔
·
چونکہ
ستارے روشنی، چمک، بلندی اور کائناتی حیثیت رکھتے ہیں، اردو زبان میں ان کو ایک طاقتور اور مؤثر شے
تصور کیا جاتا ہے — اور اسی بنیاد پر مذکر
جنس دی جاتی ہے۔
مثالیں جملوں کے ساتھ:
|
ستارے کا نام |
صنف |
جملہ استعمال |
|
تارہ |
مذکر |
وہ تارہ بہت روشن ہے۔ |
|
زہرہ |
مذکر |
زہرہ شام کو چمکتا ہے۔ |
|
عطارد |
مذکر |
عطارد سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ |
|
مشتری |
مذکر |
مشتری سب سے بڑا سیارہ ہے جو ستارے کی طرح چمکتا ہے۔ |
|
زحل |
مذکر |
زحل کے گرد حلقے ہیں۔ |
|
قمر |
مذکر |
قمر کی روشنی دل کو بھاتی ہے۔ |
|
سورج |
مذکر |
سورج روشنی اور توانائی کا ذریعہ ہے۔ |
نوٹ: لفظ "تارہ" بعض علاقوں میں مونث استعمال
ہوتا ہے، مگر اردو قواعد کے لحاظ سے مذکر
ہی ہے۔
ستاروں / سیاروں /
اجرامِ فلکی کے مشہور نام اور ان کی جنس (مذکر):
|
فلکی جسم / ستارہ |
صنف |
مختصر وضاحت |
|
سورج |
مذکر |
زمین کا مرکزی ستارہ |
|
قمر (چاند( |
مذکر |
زمین کا واحد قدرتی سیارہ |
|
زہرہ |
مذکر |
شام کا ستارہ، بہت چمکدار |
|
عطارد |
مذکر |
سورج کے قریب ترین سیارہ |
|
مریخ |
مذکر |
سرخ سیارہ، جنگ کا دیوتا |
|
مشتری |
مذکر |
سب سے بڑا سیارہ |
|
زحل |
مذکر |
حلقوں والا سیارہ |
|
یورینس |
مذکر |
گیس سے بنا ہوا سیارہ |
|
نیپچون |
مذکر |
نیلا سیارہ، دور ترین |
|
تارہ / ستارہ |
مذکر |
چمکدار فلکی جسم |
اضافی دلچسپ معلومات:
·
نجوم (علمِ نجوم) میں استعمال ہونے
والے "ستارے" جیسے زائچہ،
برج، نصیب کا ستارہ وغیرہ سب بھی مذکر ہوتے ہیں۔
·
برج جیسے برجِ حمل، برجِ ثور، برجِ جوزا
بھی مذکر مانے جاتے ہیں۔
خلاصہ:
·
ستاروں کے نام
اردو زبان میں عمومی طور پر مذکر
ہوتے ہیں۔
·
ان کے ساتھ
استعمال ہونے والی صفات، ضمیر اور افعال بھی مذکر صیغے میں آتے ہیں۔
١٦۔اردو میں جب کسی
شہر یا مقام کا نام استعمال ہوتا ہے تو اس کا جنس اکثر مذکر مانا جاتا ہے،
خواہ وہ شہر کا نام کسی خاتون یا مونث چیز سے ماخوذ ہو۔
یہ قاعدہ زبان کی روایتی ساخت پر مبنی ہے، اور اس کا استعمال
روزمرہ کے جملوں میں عام طور پر مذکر ضمیر و فعل کے ساتھ ہوتا ہے۔
مثالیں جملوں کے ساتھ:
|
شہر کا نام |
صنف |
جملہ استعمال |
|
دہلی |
مذکر |
دہلی ایک تاریخی شہر ہے۔ |
|
لاہور |
مذکر |
لاہور بہت خوبصورت ہے۔ |
|
کراچی |
مذکر |
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ |
|
ممبئی |
مذکر |
ممبئی کاروباری مرکز ہے۔ |
|
کلکتہ |
مذکر |
کلکتہ میں ادب و ثقافت کو مقام حاصل ہے۔ |
|
لکھنؤ |
مذکر |
لکھنؤ اپنی تہذیب کے لیے مشہور ہے۔ |
|
حیدرآباد |
مذکر |
حیدرآباد میں خوبصورت عمارتیں ہیں۔ |
|
بنارس |
مذکر |
بنارس مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ |
|
پٹنہ |
مذکر |
پٹنہ بہار کا دارالحکومت ہے۔ |
|
اسلام آباد |
مذکر |
اسلام آباد ایک منظم شہر ہے۔ |
وضاحت:
·
شہر چونکہ
ایک مقام
ہوتا ہے، اور اردو میں مقامات
کے نام عموماً مذکر
تسلیم کیے جاتے ہیں، اس لیے اس قاعدے کے تحت شہر بھی مذکر مانے جاتے ہیں۔
·
اگرچہ بعض شہروں
کے ناموں کے آخر میں "ی" (جو اکثر مونث الفاظ میں آتا ہے) ہو، جیسے:
دہلی، ممبئی، مدرئی — پھر بھی وہ مذکر
ہی سمجھے جاتے ہیں۔
·
اگر کسی شہر کے
ساتھ کوئی مونث صفت
استعمال کی جائے تو وہ زبان میں غلط تصور ہوتی ہے:
o
✔️
صحیح:
لاہور خوبصورت
ہے۔
o
❌ غلط:
لاہور **خوبصورتی
ہے۔
خلاصہ:
·
اردو میں شہروں کے نام عمومی
قاعدے کے تحت مذکر
ہوتے ہیں۔
·
ان کے ساتھ مذکر فعل، ضمیر اور صفات
استعمال کیے جاتے ہیں۔
۔
١٧۔ وہ الفاظ جو آواز کی نقالی کرتے
ہیں یا جانور، انسان،
یا کسی شے کی آواز کی نقل ہو کر بولے جاتے ہیں، انہیں صوتی الفاظ کہا
جاتا ہے۔
ایسے الفاظ اردو زبان میں عموماً مونث مانے جاتے ہیں۔
یہ الفاظ کوئی مادی شے نہیں ہوتے، بلکہ احساس یا کیفیت کی
نمائندگی کرتے ہیں، اور اسی لیے زبان نے انہیں مونث کا درجہ دیا ہے۔
مثالیں جملوں کے ساتھ:
|
لفظ |
قسم |
صنف |
جملہ استعمال |
|
چوں چوں |
چڑیا کی آواز |
مونث |
چڑیا کی چوں
چوں سنائی دی۔ |
|
کو کو |
کوئل کی آواز |
مونث |
کوئل کی کو
کو بہت پیاری ہے۔ |
|
ٹک ٹک |
گھڑی کی آواز |
مونث |
گھڑی کی ٹک
ٹک رات بھر سنائی دی۔ |
|
ٹن ٹن |
گھنٹی کی آواز |
مونث |
دور سے ٹن
ٹن کی آواز آ رہی تھی۔ |
|
ٹھاہ |
دھماکے کی آواز |
مونث |
اچانک ایک ٹھاہ
سنائی دی۔ |
|
چھن چھن |
پائل کی آواز |
مونث |
اس کی پائل کی چھن چھن دل کو بھا گئی۔ |
|
بھوں بھوں |
کتے کی آواز |
مونث |
کتے کی بھوں
بھوں رک نہیں رہی تھی۔ |
|
میاؤں |
بلی کی آواز |
مونث |
بلی کی میاؤں
سن کر بچہ جاگ گیا۔ |
|
چھک چھک |
ٹرین کی آواز |
مونث |
ٹرین کی چھک
چھک دور سے آ رہی ہے۔ |
|
کھٹ کھٹ |
دروازے کی آواز |
مونث |
دروازے پر کسی کی کھٹ کھٹ ہو رہی تھی۔ |
خلاصہ:
·
صوتی الفاظ، یعنی
وہ الفاظ جو آواز کی
نقل ہوں، اردو زبان میں مونث
ہوتے ہیں۔
·
ان کے ساتھ جملے
میں مونث صفات، افعال
اور ضمیر استعمال کیے جاتے ہیں۔
١٨۔ اردو میں وہ اسماء
(nouns) جن کے آخر میں "ت" یا "تے" کی آواز آتی ہے —
جیسے: حالت، عادت، رغبت، شکایت، حکایت، قدرت، نعمت —
عموماً مونث
ہوتے ہیں۔
یہ الفاظ اکثر حالت،
صفت، کیفیت یا کسی جذبے کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر عربی
یا فارسی سے ماخوذ ہیں، اور اردو میں مستعمل ہونے کے بعد مونث
حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
مثالوں کے ساتھ وضاحت:
|
لفظ |
جنس |
جملہ استعمال |
|
حالت |
مونث |
اس کی حالت
بہت خراب ہے۔ |
|
عادت |
مونث |
مجھے دیر سے اٹھنے کی عادت ہے۔ |
|
رغبت |
مونث |
بچوں میں پڑھائی کی رغبت کم ہے۔ |
|
حکایت |
مونث |
یہ ایک پرانی حکایت
ہے۔ |
|
شکایت |
مونث |
اسے ہر وقت شکایت
رہتی ہے۔ |
|
قدرت |
مونث |
قدرت
کا نظام بہت حیران کن ہے۔ |
|
نعمت |
مونث |
صحت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ |
|
فرصت |
مونث |
آج کل مجھے کچھ فرصت ملی ہے۔ |
|
ہدایت |
مونث |
اللہ ہمیں ہدایت
دے۔ |
|
فرصت |
مونث |
چھٹیوں میں فرصت
کے لمحات ملتے ہیں۔ |
نوٹ: اردو میں بعض ایسے الفاظ بھی ہیں جو "ت" پر
ختم ہوتے ہیں لیکن مذکر
ہو سکتے ہیں، جیسے "ثبوت"، "ثروت" (یہ بحث طلب ہے)، مگر عمومی
قاعدہ یہی ہے کہ "تے" پر ختم ہونے والے صفات اور حالت والے الفاظ مونث ہوتے ہیں۔
ایسے الفاظ کی فہرست (آخر میں "ت" یا "تے" آنے
والے – مونث) :
|
لفظ |
مفہوم / مطلب |
|
حالت |
کیفیت، صورت حال |
|
عادت |
معمول، روز مرہ رویہ |
|
رغبت |
دلچسپی، جھکاؤ |
|
حکایت |
قصہ، کہانی |
|
شکایت |
گلہ، اعتراض |
|
قدرت |
اللہ کی طاقت، اختیار |
|
نعمت |
اللہ کی عطا کی ہوئی شے |
|
ہدایت |
رہنمائی، راہ دکھانا |
|
فرصت |
خالی وقت، آرام |
|
عزت |
احترام، قدر |
|
محبت |
پیار، عشق |
|
رحمت |
کرم، بخشش |
|
برکت |
خیر، اضافی بھلائی |
|
شرافت |
نیکی، عزت داری |
|
عبادت |
پوجا، بندگی |
|
سیاست |
حکومت کا نظام، چالاکی |
|
قیامت |
آخرت کا دن، تباہی |
|
قیادت |
رہبری، راہنمائی |
|
عدالت |
انصاف کا ادارہ |
|
سخاوت |
فیاضی، عطا |
|
شجاعت |
بہادری، دلیری |
|
رقابت |
مقابلہ، حسد |
|
رقعت |
نرمی، رحم |
خلاصہ:
·
اردو میں "ت" یا "تے" پر ختم
ہونے والے وہ الفاظ جو کسی حالت، کیفیت یا جذبے کو ظاہر کرتے
ہیں، عموماً مونث
ہوتے ہیں۔
·
ان کے ساتھ مونث صفات، ضمیر اور فعل
استعمال کیا جاتا ہے۔
١٩۔وہ الفاظ جو کسی علاقہ کی
زبان کی حیثیت بولے جاتے ہیں۔تو وہ مونث ہوتے ہیں۔
جیسے :- فارسی ترکی ، بنگلہ وغیرہ
لیکن اگر یہی قوم یا ملک کے خیال سے بولے جائیں تو مذکر ہو جائیں گے۔
٢٠۔ حاصل مصدر خواہ فارسی کے ہوں یا اردو یا اسمائے
کیفیت وغیرہ۔ جو اس وزن پر ہوں جیسے پکار ، پچھاڑ ، پھٹکار وغیرہ مؤنث ہیں۔ جیسے:۔ بناوٹ ۔ سجاوٹ ۔
گھبراہٹ۔ دھڑکن پھسلن چھن لگن لوٹ کھسوٹ ۔ چوٹ ۔ مٹھاس کھٹاس۔ پیاس۔ چمک بھڑک ۔
مہک۔ جھلک وغیرہ۔
۲١۔ وہ عربی مصادر جو تفضیل کے وزن پر ہوں ۔ تو وہ مونث ہوتے ہیں
جیسے : تحریر ۔ تقریر۔
تدبیر تقصیر لیکن تعویز مذکر ہے۔
۲۲۔ کتابوں
کے نام بھی مؤنث ہیں۔
جیسے: گلستان بوستان تاریخ
انسائیکلو پیڈیا وغیرہ۔
۲٣۔ جن الفاظ کے آخر میں اب تاب، ہان، بند،
زار ستان سار، دان، مان ہوتے ہیں وہ مذکر ہوتے ہیں۔
جیسے: -
آفتاب، ماهتاب، بادبان، آزاد ہند، گلزار، گلستان، شر سار، گلدان، ارمان وغیرہ۔
لیکن یہ قاعدہ کلیہ
نہیں ہے۔ اس قسم کے چند الفاظ مونث ہوتے ہیں، جیسے۔ آن، یان وغیرہ مؤنث ہیں۔
۲٤۔ پہاڑوں کے نام — عام طور
پر مذکر ہوتے
ہیں۔
اصول:
کیونکہ لفظ "پہاڑ" خود مذکر ہے، لہٰذا اس سے منسوب نام بھی مذکر استعمال ہوتے ہیں۔
کوہِ طور پر نازل ہوا۔
کوہِ قاف سنائی دیتا تھا۔
ایورسٹ سب سے اونچا پہاڑ ہے۔
یہاں
تمام پہاڑوں کے ناموں کے ساتھ مذکر
صیغے استعمال
ہو رہے ہیں: "ہے"، "سنائی دیتا تھا"، "نازل ہوا"۔
۲۵۔ندیوں
کے نام — عام طور پر مونث ہوتے
ہیں۔
اصول:
کیونکہ "ندی" کی ساخت (آخری "ی") اور استعمال دونوں مونث ہیں۔
مثالیں:
جمنا ندی پاکیزہ مانی جاتی ہے۔
راوی ندی نے کنارے توڑ دیے۔
سرسوتی ندی ایک پراچین ندی تھی۔
تمام
مثالوں میں فعل مونث استعمال ہوا: "بہہ رہی ہے"، "مانی جاتی
ہے"، "تھی"
٢٦۔ دریا کے نام — عام طور پر مذکر ہوتے
ہیں۔
اصول:
"دریا" لفظ مذکر ہے، اس لیے ان ناموں کے ساتھ فعل اور صفات
بھی مذکر آئیں گی۔
مثالیں:
دریائے نیل → مذکر
کیونکہ
"دریا" لفظ مذکر ہے، اس لیے ان ناموں کے ساتھ فعل اور صفات
بھی مذکر آئیں گی۔
خلاصہ
جدول:
|
||||||||||||||||
|
|
٢٧۔عربی/اردو حروف تہجی میں تمام حروف (الفاظ نہیں) مذکر سمجھے جاتے
ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی او اردو قواعد میں حروف (جیسے: ا، ب، ت، ث...)
کو جامد اور غیر ذی روح تصور کیا جاتا ہے، اور ایسی چیزوں کا عمومی
اصول یہ ہے کہ وہ مذکر ہوتے ہیں۔
مثال:-
"الف"
(ا)→
مذکر
"باء"
(ب) →
مذکر
"جیم"
(ج) →
مذکر
"دال"
(د) →
مذکر
استثناء:
اگر
کوئی حرف کسی خاص علامت یا مونث نام سے پہچانا جائے (جیسے "ۃ" یعنی تاء مربوطة
جو مونث علامت ہے)، تو اس کا لفظ مونث ہو سکتا ہے، لیکن حرف خود پھر بھی مذکر
ہی رہتا ہے۔
مثال:
"ت"
→
"تاء" کہلانے پر بھی مذکر ہے۔
-"ہ"
→ اگرچہ
یہ مونث اسماء کے آخر میں آتی ہے، لیکن حرف "ہ" خود مذکر شمار ہوتا
ہے۔
خلاصہ:
تمام
حروف تہجی (ا، ب، پ، ت، ٹ...) اردو اور عربی میں مذکر ہیں۔ البتہ، ان سے بننے والے
الفاظ (جیسے "الف"، "باء") بھی عموماً مذکر ہوتے ہیں، سوائے
کسی خاص قاعدے کے۔
تفصیل کے ساتھ فہرست:
|
حرف |
تلفظ |
جنس |
|
ا |
الف |
مذکر |
|
ب |
بے |
مذکر |
|
پ |
پے |
مذکر |
|
ت |
تے |
مذکر |
|
ٹ |
ٹے |
مذکر |
|
ث |
ثے |
مذکر |
|
ج |
جیم |
مذکر |
|
چ |
چے |
مذکر |
|
ح |
حے / حا |
مذکر |
|
خ |
خے / خا |
مذکر |
|
د |
دال |
مذکر |
|
ڈ |
ڈال |
مذکر |
|
ذ |
ذال |
مذکر |
|
ر |
رے |
مذکر |
|
ڑ |
ڑے |
مذکر |
|
ز |
زے |
مذکر |
|
ژ |
ژے |
مذکر |
|
س |
سین |
مذکر |
|
ش |
شین |
مذکر |
|
ص |
صاد |
مذکر |
|
ض |
ضاد |
مذکر |
|
ط |
طاء / طا |
مذکر |
|
ظ |
ظا / ظاء |
مذکر |
|
ع |
عین |
مذکر |
|
غ |
غین |
مذکر |
|
ف |
فے |
مذکر |
|
ق |
قاف |
مذکر |
|
ک |
کاف |
مذکر |
|
گ |
گاف |
مذکر |
|
ل |
لام |
مذکر |
|
م |
میم |
مذکر |
|
ن |
نون |
مذکر |
|
ں |
نونِ غنہ |
مذکر |
|
و |
واو |
مذکر |
|
ہ |
ہے |
مذکر |
|
ء |
ہمزہ |
مذکر |
|
ی |
یے |
مذکر |
|
ے |
بڑی یے |
مذکر |
(کچھ الفاظ ایسے بھی ہیں جن الفاظ پر مذکورہ اصول کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ ایسے الفاظ کو
مستثنٰی “ کہتے ہیں۔)
مذکر سے مونث بنانے کے
قاعدے :
ا۔ مذکر کے
”الف“
کو
” ی“
سے بدل کر ۔
جیسے:- بیٹا ۔ بیٹی، چیونٹا ۔ چیونٹی، اندھا – اندھی،
لڑکا -لڑکی ،گھوڑا -گھوڑی،
۲۔ مذکر کے
” ہ “ کو ”ی“
سے بدل کر ۔
جیسے:- بنده - بندی
۳۔
مذکر الفاظ کے آخر میں
”ی“
بڑھا کر ۔
جیسے
:برہمن - برہمنی
ہرن ۔ ہرنی
۴۔ مذکر کے آخری حرف کو
”ن“
سے بدل کر، یا آخر کے
کسی حرف کو ہٹا کر ان کے اضافہ سے۔
جیسے: بھنگی ۔ بھنگن، جوگی ۔ جوگن، گوالا - گوالن،
دھوبی ۔ دھوبن -
۵۔ مذکر الفاظ کے آخر میں
”ن“
بڑھا کر۔
جیسے
:ناگ – ناگن، چمار - چمارن -
۶۔ مذکر کے آخری حرف کو گرا کرنی یا انی کے اضافہ سے۔
جیسے
: استاد - استانی -
٧۔ مذکر کے آخر میں نی یا انی کے اضافہ سے۔
جیسے
: شیر – شیرنی ، ڈاکٹر ۔ ڈاکٹرنی ، مہتر - مہترانی،
مغل ۔ مغلانی ، دوم - ڈومنی
٨۔
مذکر کے آخری حرف کو ہٹا کر یا بغیر ہٹائے
”یا“
بڑھا کر
جیسے : چوہا ۔ چوہیا، کتا ۔
کتیا،